Jump to content

History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu [portable] -

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء کا دورانیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ نوے سال سیاسی بیداری، مسلم قومیت کے ابھار، اور بالآخر ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کی جدوجہد پر مشتمل ہیں۔ ذیل میں اس طویل جدوجہد کے اہم ترین سنگِ میل تفصیلی نوٹس کی صورت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

انگریز حکومت کے سامنے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کرنا اور مسلمانوں میں حکومت کے لیے وفاداری کے جذبات پیدا کرنا۔

تحریکِ پاکستان: ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک (تفصیلی نوٹس)

ان اصلاحات کے ذریعے مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات کے حق کو قانونی حیثیت دی گئی۔ 9. میثاقِ لکھنؤ (1916ء)

انگریزوں نے ہندوستان کو متحد رکھنے کی آخری کوشش کی لیکن کانگریس کے تعصب کی وجہ سے یہ پلان ناکام ہو گیا۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

— برطانوی راج کے خلاف پہلی بڑی مسلح جدوجہد جس کے نتیجے میں مغل سلطنت کا خاتمہ ہوا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ تاجِ برطانیہ کا براہِ راست کنٹرول قائم ہوا۔ تحریکِ علی گڑھ:

14 اگست 1947ء (بمطابق 27 رمضان المبارک) کو دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے ابھرا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور نوابزادہ لیاقت علی خان پہلے وزیرِ اعظم بنے۔

مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کرنا اور حکومت کے سامنے مسلم مطالبات پیش کرنا۔ ۷. میثاقِ لکھنؤ (۱۹۱۶ء)

جنگِ آزادی کے بعد جب مسلم قوم مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، سر سید احمد خان نے ان کی رہنمائی کی: خطبہ الٰہ آباد (1930ء) کیا آپ ان میں

اسی پس منظر میں یکم اکتوبر 1906 کو مسلمانوں کے ایک وفد نے وائسرائے لارڈ منٹو سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات پیش کیے۔ اس کے نتیجے میں 30 دسمبر 1906 کو ڈھاکہ میں کا قیام عمل میں آیا۔ یہ جماعت مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک منظم سیاسی پلیٹ فارم تھی۔

پہلی جنگِ عظیم کے بعد ترکی کی خلافت کو بچانے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی قیادت میں تحریکِ خلافت شروع کی۔ اس تحریک نے مسلمانوں میں سیاسی شعور اور اتحاد پیدا کیا۔ 7. خطبہ الٰہ آباد (1930ء)

کیا آپ ان میں سے کسی (جیسے قراردادِ مقاصد یا تحریکِ علی گڑھ) پر مزید تفصیل جاننا چاہتے ہیں؟

سر سید احمد خان اور تحریکِ علی گڑھ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

1867ء میں بنارس کے ہندوؤں نے جب اردو کے خلاف مہم شروع کی (اردو ہندی تنازع)، تو سر سید نے پہلی بار کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں جو ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔

مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے مشترکہ طور پر "دارالعلوم دیوبند" کی بنیاد ڈالی تاکہ دینی علوم کو فروغ دے کر امت مسلمہ کی فکری اور روحانی تربیت کی جا سکے۔ 1894 میں ندوۃ العلماء کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد دینی اور دنیاوی تعلیم کو یکجا کرنا تھا۔

7۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء اور کانگریسی وزارتیں

برصغیر کے مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر انگریزوں کے خلاف پہلی بڑی مسلح جدوجہد کی۔ اس کی ناکامی کے بعد مغلیہ سلطنت کا باقاعدہ خاتمہ ہوا اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔

:

×
×
  • Create New...